Madhosh Balhami responds to a tribute to his lost poems

مدہوش بالہامی بنامِ زابرہ فاضلی

تاریخ۔ 12 اپریل 2018

زابرہ میری بیٹی اے میری نورِ بصر

مرہمِ زخمِ جگر میرے لٸے ہیں تیرے جزبات

ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی شناساٸی ہے

میرے فکرو نظر کی اساس تیرےاحساسات

راہِ حق میں گھر گیا میرا برادر تیرا

منظر بہ منظر کربلا ہے کشمیر کے حالات

جنتِ کشمیر میں کیا کیا نہ ہوا، بالہامہ میں

مارچ ۱۵ کا سانحہ بھی ہے کوٸی بات

میری بستی میں پہنچے وہ مسافرانِ راہِ جلیل

جیسے کوفے میں فرزندانِ مسلم بنِ عقیل ؓ

ہاے افسوس کہ ہانیؓ نہ بن سکا مدہوش

ہرطرف سر گران تھے حارِثانِ ذلیل۔

Zabirah Fazili had written this tribute to Madhosh Balhami

Madhosh Balhami – A Tribute

  • Share this poem with your friends.
  • Send your contributions to write@withkashmir.com to get featured.
  • Leave your feedback in the comments below.

Comments

comments